لائن آف کنٹرول پار کرنے کے بعد موت کا خوف نہیں تھا‘

اُردو
64
0
sample-ad

انڈیا کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی خوف اور بے یقینی موجود ہے اور قبل لائن آف کنٹرول پار کر کے مظفر آباد میں بسنے والے کشمیری سرحد کے اُس پار اپنے پیاروں کے لیے پریشان ہیں۔

لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف تو نجانے اس نئی صورتحال کو پہلے دن کیسے دیکھا گیا، لیکن کم از کم پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کسی کو بھی یہ توقع نہیں تھی کہ انھیں یہ خبر ملے گی کہ انڈیا میں کشمیر کا خصوصی ریاستی درجہ ختم کر دیا جائے گا۔

یہاں کے لوگوں کے لیے یہ ایک حیران کن بات تھی، ایک دھچکا تھا۔

پاکستان میں کشمیر دو دِن پہلے سے ہی خبروں میں تھا۔ تین اگست کو پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا کہ انڈیا نے یہاں کلسٹر بموں سے عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔

الزامات کے مطابق یہ بم جب بچوں کے ہاتھ لگے تو ان میں سے ایک ہلاک ہو گیا اور ایک ہی خاندان کے دس افراد زخمی ہوئے۔ ایک اور بم جب چند نوجوانوں کے ہاتھ میں پھٹا تو دو ہلاکتیں ہوئیں۔ تاہم انڈیا کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

لیکن اس موقع پر کسی کو یہ اُمید نہیں تھی کہ آئندہ دو دن کے اندر ایک نیا بحران پیدا ہو جائے گا۔

میں اپنی ٹیم کے ہمراہ کلسٹر بموں سے جڑی اسی خبر کی تحقیق کے لیے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے گڑھی دوپٹہ پہنچی۔ یہاں خبر ملی کہ لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کر دیا گیا ہے۔

یہ خبر سنتے ہی مظفر آباد اور دیگر علاقوں میں موجود شہریوں نے لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف مقیم اپنے رشتہداروں سے رابطہ کرنے کی کوششیں شروع کر دیں، لیکن کہیں سے کوئی خبر نہیں آ رہی تھی۔

یہاں کے مقامی افراد کے لیے یہ اتنی مشکل اور جذباتی صورتحال تھی کہ ایک رپورٹ کی تیاری کے دوران میں نے جب ایک خاتون سے اس بارے میں بات کی تو اس گھر کے کچھ افراد رو پڑے۔ انھیں پریشانی تھی کیونکہ وہ اپنے بہن بھائیوں سے رابطہ نہیں کر پا رہی تھیں اور انھیں ڈر تھا کہ انڈیا کی سیکیورٹی فورسز ان کے اہلخانہ کو مار دیں گی۔

ان کے خوف کی ایک اور وجہ بھی تھی۔ ان کے شوہر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں آزادی یا علیحدگی پسندوں کی تحریک سے منسلک تھے اور 90 کی دہائی کے آغاز میں ہی ایک مقابلے میں ان کی ہلاکت ہوئی تھی۔

ان کی بیوہ کو جب یہ خبر ملی تو وہ گرفتاری کے خوف سے اپنے نومولود بچے کے ہمراہ لائن آف کنٹرول پار کر کے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر منتقل ہو گئیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ وہ لائن آف کنٹرول پار کرنے میں کیسے کامیاب ہوئیں تو انھوں نے بس یہی جواب دیا ‘وہ ایک خوفناک دن تھا۔’

سرینگر سے مظفر آباد آنے والے کشمیری

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک بہت بڑی تعداد ایسے شہریوں کی ہے جو یا تو حالات خراب ہونے کے باعث لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب سے یہاں منتقل ہوئے یا ان کے آباؤ اجداد 1947 اور 1948 کے درمیان اس وقت جدا ہو گئے جب دونوں ملکوں میں کشمیر کے معاملے پر پہلی جنگ ہوئی تھی۔

اس طرح یہاں بازاروں میں چلتے پھرتے آپ کو ہر دو قدم پر کوئی ایسا شخص ضرور ملے گا جس کے خاندان کے کچھ افراد انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مقیم ہیں اور ان میں زیادہ تر کشمیر کے شورش زدہ علاقوں میں ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران رابطے منقطع ہونا ان کے لیے ایک بڑی پریشانی تھی۔ انھیں اپنے رشتے داروں کی فکر تھی کہ نجانے وہ کس حال میں ہوں گے۔

مظفر آباد میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کے لیے الگ آبادی موجود ہے۔ دریا کے کنارے ان تنگ گلیوں میں درجنوں گھر بنے ہوئے ہیں۔ یہاں ایک گھر میں ہماری ملاقات صغیر (فرضی نام) سے بھی ہوئی۔

وہ بھی 1990 کی دہائی کے آغاز میں سرینگر سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اس وقت منتقل ہوئے جب انڈین انٹیلی جنس اداروں نے انھیں ایک بار گرفتار کیا اور پھر چھوڑ دیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ انھوں نے آخر ایسا کیا کیا تھا کہ انڈین سیکیورٹی ادارے ان کے پیچھے پڑ گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں اس وقت حالات خراب تھے۔

‘لوگ انڈیا سے آزادی چاہتے تھے، نوجوان بھی آگے آگے تھے۔ انڈین سیکیورٹی اداروں کو مجھ پر شک تھا کہ میں مجاہدین کی مدد کرتا ہوں، انھیں پناہ دیتا ہوں اور پاکستان میں ٹریننگ لیتا ہوں۔ انھیں مجھ پر شک تھا کہ میرے پاس اسلحہ ہے اور میں اسے ان کے خلاف استعمال کرتا ہوں۔‘

تو کیا واقعی ایسا تھا؟ اس سوال پر صغیر نے کہا ’نہیں، اور اگر ہم ان کو کہتے بھی کہ ہمارے پاس کوئی اسلحہ نہیں، تب بھی وہ ہم پر یقین تو نہیں کرتے تھے۔ بہرحال ہم نے انھیں کہا کہ ایسا کچھ بھی نہیں، نہ ہمارے پاس اسلحہ ہے نہ ہم پناہ دیتے ہیں۔ مگر ہاں ہم آزادی چاہتے ہیں، ہم اس کے لیے لڑتے رہیں گے۔‘

میں نے ان سے پوچھا کہ پھر انھوں نے فرار کی راہ کیوں اختیار کی؟

’میرے ارد گرد لوگ گرفتار ہو رہے تھے تو میرے گھر والوں نے مجھے کہا کہ میں یہاں سے کچھ عرصے کے لیے چلا جاؤں۔ تو میں مظفر آباد کی طرف نکل آیا۔‘

ایل او سی پار کرنا کتنا مشکل تھا؟

صغیر کا اپنا تجربہ یہ کہتا ہے کہ وہ رات ان کی زندگی کی ’سب سے مشکل رات تھی‘۔

انھوں نے بتایا ’ہم نے چھپ کر یہ لائن کراس کرنا تھی۔ لیکن ہم بھٹک گئے۔ ہمیں لگا کہ ہم چلتے چلتے انڈین فورسز کے پاس ہی پہنچ جائیں گے۔ سو ہم وہیں درختوں کے گرد اُگی جھاڑیوں میں بیٹھ گئے۔‘

صغیر ایل او سی پار کرتے وقت اکیلے نہیں تھے۔ انھوں نے بتایا ’میرے ساتھی نے میرے منع کرنے کے باوجود سگریٹ سلگایا۔ اندھیرے میں جلتا سگریٹ تو نظر آ گیا، اور پھر ایک منٹ کے اندر اندر فائرنگ شروع ہو گئی۔ ہم دونوں ایک ہی درخت کے پیچھے چھپے تھے۔ گولیاں مجھے چھو کر گزر رہی تھیں۔‘

موت کو قریب سے دیکھنے کے اس واقعہ پر ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت میں سوچ رہا تھا کہ یہ کیسی جگہ موت آ رہی ہے جہاں میرا جسم جانور اور پرندے نوچ کھائیں گے اور مجھے دفن ہونے کے لیے زمین بھی نہیں ملے گی۔ موت میرے سامنے تھی۔‘

لیکن صغیر کہتے ہیں کہ وہ ان مشکل حالات میں بچ نکلے۔ ’پھر گولیاں رک گئیں۔ یہاں تک کہ انڈین بارڈر فورس کی ایک پیٹرولنگ ٹیم ہمارے قریب سے ہی گزر گئی۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ہمیں پتا چل گیا کہ ہم نے کس سمت میں نہیں جانا۔ سو ہم نے صبح فجر کی اذان کے وقت ایک نالے کے ساتھ رینگتے رینگتے اسے پار کیا۔‘

مگر اتنا سب ہونے کے بعد اگر انھیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گولی مار دی جاتی تو کیا ہوتا؟ اس کے جواب میں انھوں نے بتایا ’جب ہم لائن آف کنٹرول پر انڈیا کی حد سے باہر نکلے تو پھر موت کا خوف نہیں تھا۔ پاکستانی فوج کی گولی کا دکھ نہ ہوتا’۔

ایل او سی کے اس پار مزاحمت کرنے والوں کے کشمیر کے اس حصے میں آنے کی کہانی کم و بیش ایک سی ہی ہے۔ ان کے مطابق ان کے اہلخانہ کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آنے کے لیے سرکاری دستاویزات اور پاسپورٹ وغیرہ نہیں دیا جاتا جبکہ ان سے پوچھ گچھ کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ یوں تحریک کا حصہ رہنے والے جب ایل او سی کے اس جانب پناہ کے لیے آتے تھے تو ان پر واپسی کے تمام راستے بند ہو جاتے تھے۔

صغیر اب مظفر آباد میں کشمیر کی انڈیا سے آزادی کے لیے ہونے والے جلوسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

ایل او سی پر اس وقت انڈیا کی جانب سے باڑ نصب کی جا چکی تھی جبکہ یہاں دونوں اطراف کی افواج کی سخت نگرانی بھی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہاں سے غیرقانونی کراسنگ ناممکن ہو چکی ہے۔ تاہم انڈیا کی جانب سے پاکستان پر اب بھی یہ الزامات لگتے ہیں جنھیں پاکستان سختی سے مسترد کرتا رہتا ہے.

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.