دنیا بھر میں ملحدوں اور ناستکوں کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا

اُردو
56
0
sample-ad
ایک نئی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر اس وقت مخصوص مذہبی گروپوں، ملحدوں اور ناستکوں کو بہت سے معاشروں میں مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے اور اکثریتی آبادی کے مذہبی حلقے انہیں مرکزی سماجی دھاروں سے دور کرتے جا رہے ہیں۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم پِیو ریسرچ سینٹر کی طرف سے پیر بارہ اگست کی رات جاری کردہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق اس ادارے کی طرف سے دو درجن کے قریب ممالک میں کسی بھی مذہب کے نہ ماننے والوں، خدا کے وجود سے انکار کرنے یا اس بارے میں شبہات کا شکار افراد کے علاوہ مخصوص مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے بارے میں جو تحقیق کی گئی، اس کے نتائج پریشان کن تھے۔

اس ریسرچ سینٹر کے مطابق مجموعی طور پر یہ تحقیق 23 ممالک میں کی گئی اور دیکھا گیا کہ ان ریاستوں میں ملحدوں، ناستکوں اور مخصوص مذہبی اقلیتی گروپوں سے تعلق رکھنے والے انسانوں کو نہ صرف مسلسل بڑھتے ہوئے سماجی دباؤ کا سامنا ہے بلکہ انہیں مختلف شکلوں میں اکثریتی آبادی کی طرف سے تعاقب کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

اس دوران دیکھا گیا کہ ان دو درجن کے قریب ریاستوں میں ایسے انسانوں پر سماجی دباؤ، تنقید اور ان کا تعاقب کرنے کے واقعات میں 2017ء میں 2016ء کے مقابلے میں کافی اضافہ ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ ان میں سے نو ممالک میں تو یہ اضافہ بہت ہی واضح اور پریشان کن تھا۔

غیر مذہبی انسان‘

اس رپورٹ میں لادین افراد، ملحدوں اور ناستکوں کے لیے جو اجتماعی اصطلاح استعمال کی گئی، وہ ‘غیر مذہبی‘ افراد کی اصطلاح تھی۔ پِیو ریسرچ سینٹر کے ماہرین کے مطابق بین الاقوامی سطح پر غیر مذہبی انسانوں کو اپنے خلاف نہ صرف زیادہ ہوتے جا رہے زبانی حملوں کا سامنا ہے بلکہ انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے، جس میں قتل تک کے انتہائی اقدامات بھی شامل ہیں۔ م‍زید یہ کہ غیر مذہبی انسانوں کے خلاف یہ رویہ صرف انفرادی سطح پر ہی نہیں بلکہ سماجی گروپوں کے طور پر بھی اپنایا جاتا ہے۔

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.