عمران خان: ’ایسا لگا ہے کہ میں کسی باہر کے دورے سے نہیں آرہا بلکہ ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں‘

سیاست
56
0
sample-ad

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ ملکی اداروں کو ٹھیک کریں گے ہمیں ملک کو سنبھالنے میں ایک سال لگا۔

انھوں نے یہ بات امریکہ کے دورے سے واپسی پر اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر کہی جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

انھوں نے ایئرپورٹ پر موجود پی ٹی آئی کے کارکنوں سے خطاب میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ‘میں کسی باہر کے دورے سے نہیں آ رہا بلکہ ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں۔’

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک خود دار قوم بننا ہے۔

‘میں بار بار کہتا ہوں کہ نہ میں کبھی کسی کے سامنے جھکا ہوں نہ میں نے اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکنے دینا ہے۔’

وزیراعظم نے کہا کہ ایک سال پہلے ان کی پارٹی کو اقتدار ملا۔ ہمیں ملک کو سھنبالنے میں ایک سال لگا۔ اب آپ دیکھیں گے کہ ہم آگے بڑھیں گے لیکن جب تک ملک کو مقروض کرنے والوں کا حساب نہیں ہو گا۔

عمران خان نے کہا کہ یہ جو مشکل حالات میں ڈاکوؤں پاکستان کو چھوڑ کر گئے تھے ہم نے پاکستان میں اصلاحات کرنی ہیں ایف بی آر کو ٹھیک کرنا ہے۔ ہم اسی ملک سے پیسہ اکھٹا کریں گے۔۔۔۔ سکول بنوائیں گے، ہسپتال بنوائیں گے۔’

اس سے قبل اپنے دورۂ امریکہ کے آخری دن منگل کو واشنگٹن میں امریکی ادارہ برائے امن کی ایک تقریب سے خطاب بھی کیا۔

تقریب کے دوران سوال و جواب کے سیشن میں ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی فوج بھیجنے کا فیصلہ غلط تھا۔

انھوں نے کہا ’ہمیں کبھی بھی قبائلی علاقوں میں فوج نہیں بھیجنی چاہیے تھی کیونکہ قبائلی علاقہ ہمیشہ خودمختار رہا ہے جس کے اپنے قوانین ہیں حتیٰ کہ برطانیہ نے اپنے دور حکومت میں اس علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔‘

انھوں نے کہا ’فوج کو سول علاقوں میں نہیں بھیجنا چاہیے کیونکہ آپ جب بھی فوج کو سول علاقوں میں بھیجیں گے تو آپ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوں، کولیٹرل ڈیمج ہو گا، معصوم انسان مریں گے کیونکہ وہاں کوئی فوج نہیں ہوتی بلکہ صرف دیہات سے گوریلا کارروائیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس کولیٹرل ڈیمج کی وجہ سے پاکستانی طالبان وجود میں آئے کیونکہ اس سے پہلے پاکستانی طالبان نہیں تھے۔

’اس وجہ سے قبائلی علاقوں میں لوگ متاثر ہوئے کیونکہ ایک طرف عسکریت پسند تھے تو ایک طرف پاکستان آرمی۔ آدھے سے زیادہ قبائلی بےگھر ہوئے تو بنیادی طور پر ملک دوزخ بن گیا۔‘

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو افغانستان کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کی بجائے غیرجانبدار رہنا چاہیے تھا۔

’اگر پاکستان اس وقت غیرجانبدار رہتا تو ان عسکریت پسند گروہوں کو وقت کے ساتھ ساتھ کنٹرول کیا جا سکتا تھا لیکن چونکہ ہم امریکی جنگ کا حصہ بنے اس لیے وہ ہمارے خلاف ہو گئے۔‘

سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا ’ہم نے اسّی کی دہائی میں جہادی گروہوں کو پیدا کیا۔ ہم نے ان کے دماغوں کو جہاد سے بھر دیا کہ مذہب کی خاطر ہمیں افغاسستان میں غیر ملکی قبضے کے خلاف لڑنا ہو گا تو اس طرح القاعدہ سمیت یہ تمام گروہ پاکستان میں آ گئے۔‘

’نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو ان گروہوں کو جن کے پاکستان آرمی سے قریبی تعلقات تھے کیونکہ پاکستانی فوج نے ہی ان کو بنایا تھا، ہم نے کہا کہ اب چونکہ وہاں اچھے لوگ ہیں تو جہاد نہیں ہو سکتا۔ تو ظاہر ہے ان میں سے بہت سے پاکستان کی فوج کے خلاف ہو گئے کیونکہ پاکستانی فوج اس وقت انھیں غیرجانبدار بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔‘

’پی ٹی ایم بھی قبائلیوں کی محرومی کا ردعمل‘

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ برس پشتون تحفظ موومنٹ کا ابھرنا بھی دراصل قبائلی علاقوں کی محرومی کا ردعمل ہے۔

’پشتون تحفظ موومنٹ کا آغاز ہوا اور جو یہ کہہ رہے تھے وہ درست تھا۔ قبائلی علاقہ جات تباہ ہو چکے تھے، قبائلی علاقوں کے تقریبا نصف لوگوں بے گھر ہو گئے تھے۔‘

تاہم انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ قبائلی علاقوں میں ہونے والے انتخابات اور ترقیاتی فنڈز کے اجرا کے بعد ’اب معاملات بہتر ہو رہے ہیں۔‘

عمران خان نے پی ٹی ایم کے اراکین کی گرفتاری اور ان کے احتجاج کی کوریج پر پابندی کی رپورٹس کو مسترد کیا اور کہا کہ فوج نے ایک فوجی چیک پوسٹ پر حملے کے بعد پی ٹی ایم کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔

پاکستانی میڈیا پر سنسر شپ کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستانی میڈیا برطانوی میڈیا سے زیادہ آزاد ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں میڈیا صرف آزاد ہی نہیں بلکہ بعض اوقات کنٹرول سے باہر بھی ہو جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں 70 سے 80 چینل موجود ہیں جبکہ صرف تین نے سنسر شپ کی شکایت کی۔

’یہ سنسر شپ نہیں ہے بلکہ ہم میڈیا واچ ڈاگ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ ہم میڈیا کو حکومت کے ذریعے نہیں بلکہ میڈیا واچ ڈاگ کے ذریعے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔‘

’ایران میں جنگ ہوئی تو لوگ القاعدہ کو بھول جائیں گے‘

ایران تنازعے پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ’مجھے نہیں معلوم کہ باقی ممالک کو اس بات کا اندازہ ہے یا نہیں کہ ایران کے ساتھ تنازعے کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ عراق جیسا نہیں ہو گا۔ یہ اس سے کہیں زیادہ برا ہو گا۔ اس کے پاکستان پر بھی منفی اثرات ہوں گے۔ اس سے دہشتگردی بڑھے گی اور لوگ القاعدہ کو بھی بھول جائیں گے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’شیعہ مسلمانوں میں سنی مسلمانوں کی نسبت شہادت کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے۔ یہ جنگ بہت مختصر ہو سکتی ہے اگر اس میں ہوائی اڈوں پر بمباری ہوئی لیکن مجھے یہ بات پریشان کرتی ہے کہ بہت سے لوگوں کو اس جنگ کے بعد کے اثرات کا اندازہ نہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے کا فوجی حل نہیں ہونا چاہیے: ‘اگر پاکستان اس میں کوئی کردار ادا کر سکتا ہے تو ہم کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ ہم پہلے بھی ایران کو یہ رائے دے چکے ہیں۔ پہلے مجھے لگا کہ ایران رضامند ہے لیکن پھر مجھے لگا کہ ایران بہت مضطرب ہو رہا ہے۔ اور میرا نہیں خیال کہ انھیں ایسی صورتحال میں دھکیلنا چاہیے جہاں یہ معاملہ تنازعے کی جانب چلا جائے۔‘

امریکہ سے دو طرفہ بھروسہ چاہتے ہیں‘

اس تقریب کے بعد منگل کو ہی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں دو طرفہ بھروسہ چاہتے ہیں۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو از سر نو استوار کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

انھوں نے نینسی پلوسی سے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ پاکستان کے نقطۂ نظر سے آگاہی حاصل کرے۔

افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ 19 سال سے جاری افغانستان کی جنگ کا سیاسی حل تلاش کرنا ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں سیاسی استحکام کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں کیونکہ افغانستان کی صورت حال پیچیدہ ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ افغان مسئلے کے حل کے لیے امریکہ اور پاکستان کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔

عمران خان نے منگل کو کیپیٹل ہِل میں پاکستان کاکس سے بھی خطاب کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں پہلے پاکستان کے بارے میں غلط فہمی پائی جاتی تھی اور ماضی کی حکومتوں نے امریکہ کو زمینی حقائق سے آگاہ نہیں کیا۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ لڑی جس میں پاکستان کا ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ پاکستان نے امریکا کی جنگ میں ہزاروں قربانیاں دیں لیکن امریکا نے ہمیشہ پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کیا۔

پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ آنے کا مقصد پاکستان کے بارے میں حقیقت بتانا تھا۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے نینسی پلوسی نے کہا کہ پاکستان اورامریکا کے تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کوسراہتے ہیں۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نے کہا کہ دہشت گردی اور منی لانڈرنگ میں امریکہ کو پاکستان کا تعاون حاصل ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.