اوئن مورگن: اللہ بھی ہمارے ساتھ تھا. ساری دنیا حیران

کھیل
55
0
sample-ad

اتوار کو کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کا پل پل توازن بدلتا ہوا فائنل میچ اپنے سنسنی خیز عروج پر تھا جہاں کھیل سے زیادہ قسمت کا کھیل جاری تھا۔

اور اس ڈوبنے ابھرنے کے کھیل میں نیوزی لینڈ کے خلاف انگلینڈ فاتح قرار پایا۔

اس میچ کے بعد پریس کانفرنس میں جب انگلینڈ کے کپتان اوئن مورگن سے پوچھا گیا کہ آیا آئرش خوش قسمتی ان کے لیے جیت کی نوید لائی تو انھوں نے کہا کہ ‘اللہ بھی ہمارے ساتھ تھا۔’

مورگن نے بتایا کہ جب انھوں نے عادل رشید سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ ‘یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے۔’

اس کے ساتھ ہی انھوں نے انگلینڈ کی ٹیم کے تنوع اور اس کی خوبصورتی کے سر اس جیت سہرا باندھتے ہوئے کہا کہ ‘اس میں سبز رنگ کا عنصر بھی شامل ہے۔’

انھوں نے ٹیم کے تنوع کے بارے میں کہا: ‘در اصل یہی ہماری ٹیم کا افتخار ہے، ہمارا مختلف پس منظر اور ہماری مختلف ثقافت ۔۔۔ ہمیں مشکل وقت میں ساتھ رکھتی ہے اور مزاح پیدا کرتی ہے۔’

اس ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی ٹیم سے زیادہ تنوع کسی دوسری ٹیم میں نہیں تھا۔انگلینڈ کی ٹیم میں کپتان مورگن سمیت سات کھلاڑی ایسے ہیں جن کی جڑیں انگلینڈ میں نہیں ہیں۔

اور اس تنوع کے حیرت انگیز کارنامے اور ان کے ایک ساتھ مل کر بہتر ٹیم ہونے کا اعتراف انگلینڈ کے کپتان ایون مارگن نے انتہائی اہم موقعے پر کیا۔

اوئن مورگن نے آئرلینڈ کی جانب سے سکاٹ لینڈ کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلا تھا اور انھوں نے آئرلینڈ کے لیے سنچری بھی سکور کر رکھی ہے لیکن انھوں نے پھر انگلینڈ کو منتخب کیا اور وہ سنہ 2009 کی آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی میں انگلینڈ کے لیے سٹار ثابت ہوئے۔

رواں ورلڈ کپ کی دس اننگز میں مورگن نے 111 کے سٹرائیک ریٹ سے 371 رنز بنائے جن میں ریکارڈ 17 چھکوں سے مزین سنچری بھی شامل تھی۔

بین سٹوکس

مورگن خود اگر آئرش ہیں تو فائنل میں انگلینڈ کی جیت میں کلیدی کردار ادا کرنے والے بین سٹوکس کی پیدائش اسی ملک یعنی نیوزی لینڈ کی ہے جس کے خلاف وہ فتح گر ثابت ہوئے۔

سٹوکس نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں پیدا ہوئے تھے جبکہ ان کے والد جیرالڈ سٹوکس نے رگبی لیگ میں نیوزی لینڈ کی نمائندگی کی تھی۔

اس ورلڈ کپ کے 11 میچوں کی دس اننگز میں بین سٹوکس سے پانچ نصف سنچریوں کے ساتھ 465 رنز بنائے۔ ورلڈ کپ کے فائنل میں سٹوکس نے ثابت کیا کہ آخر وہ اس ٹیم کے لیے اس قدر اہم کیوں ہیں۔ انھوں نے نہ صرف انگلینڈ کی ڈوبتی کشتی کو پار لگایا بلکہ سپر اوور میں بھی اپنا جوہر دکھایا۔

جیسن رائے

سٹوکس کے علاوہ انگلش ٹیم کا ایک اور کھلاڑی جو اس ورلڈ کپ میں اپنی دھواں دھار بلے بازی کے لیے جانا جاتا رہا وہ اوپنر جیسن رائے تھے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ جیسن رائے کی جائے پیدائش بھی انگلینڈ نہیں ہے۔ وہ دراصل جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے اس ورلڈ کپ میں آٹھ میچوں کی سات اننگز میں 115 کے سٹرائیک ریٹ سے 443 رنز بنائے۔

ان کی کمی بعض میچوں میں انگلش ٹیم کو بہت محسوس ہوئی لیکن جب وہ ٹیم میں شامل رہے تو انھوں نے کھیل کا رخ بدل دیا اور جس انگلینڈ کو ایک وقت میں سیمی فائنل مرحلے تک پہنچنے کے لیے مشکلات کا سامنا تھا، اسے اپنی جارحانہ اننگز سے قوت بخشی۔

معین علی اور عادل رشید

انگلش ٹیم میں دو پاکستانی نژاد کھلاڑی بھی ہیں۔ ان میں سے معین علی کے دادا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے میرپور سے نقل مکانی کر کے انگلینڈ آئے تھے لیکن معین علی خود برمنگھم میں پیدا ہوئے۔

معین علی کے علاوہ اس فاتح سکواڈ میں دوسرا نام عادل رشید کا ہے۔ وہی عادل رشید جنھوں نے بقول مورگن انھیں بتایا تھا کہ ’اللہ بھی انگلش ٹیم کے ساتھ ہے۔‘

عادل رشید کے آباؤاجداد کا تعلق بھی پاکستان سے ہے۔ عادل نے سیمی فائنل میں تین وکٹیں لے کر اپنی ٹیم کی فائنل تک رسائی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ اس ٹورنامنٹ کے تمام میچوں میں انگلش ٹیم کا حصہ رہے اور 11 وکٹیں حاصل کیں۔

جوفرا آرچر

ورلڈ کپ کے فائنل میں سپر اوور پھینکنے والے جوفرا آرچر کا تعلق ویسٹ انڈیز کے جزیرے بارباڈوس سے ہے۔

جوفرا نے ویسٹ انڈیز کی انڈر 19 ٹیم کی نمائندگی بھی کی اور پھر بعد میں انھوں نے انگلینڈ کی جانب سے کھیلنے کا فیصلہ کیا جو کہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ انگلینڈ کے لیے انتہائی کارآمد ثابت ہوا ہے۔

اس ٹورنامنٹ میں جوفرا آرچر نے کل 20 وکٹیں لیں اور وہ آسٹریلیا کے مچل سٹارک (27) اور نیوزی لینڈ کے فرگیوسن (21) کے بعد تیسرے نمبر پر رہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ آرچر انگلینڈ کے ورلڈ کپ کے لیے ابتدائی سکواڈ میں شامل نہیں تھے اور ورلڈ کپ سے قبل پاکستان کے خلاف سیریز میں ان کی کارکردگی دیکھتے ہوئے انھیں سکواڈ کا حصہ بنایا گیا تھا۔

ٹام کرن

ورلڈ کپ کے لیے انگلش سکواڈ میں آل راؤنڈر ٹام کرن بھی شامل تھے لیکن انھیں کسی میچ میں کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا۔

وہ زمبابوے کے سابق سٹار کیون کرن کے بیٹے ہیں لیکن ان کی پیدائش جنوبی افریقہ میں ہوئی اور انھوں نے ابتدائی کرکٹ وہیں کھیلی۔

سوشل میڈیا پر ایون مورگن کی تنوع کی خوبصورتی اور اللہ ہمارے ساتھ ہے پر رد عمل جاری ہے وہیں جب جشن کے لیے روایتی طور پر شیمپین کی بوتل کھولی گئی تو معین علی اور عادل رشید کا وہاں سے بچ کر نکلنے پر بھی باتیں ہو رہی ہیں۔

Facebook Comments

Website Comments

POST A COMMENT.